174

لبِ گویا اور عمر عبدالرحمن کا اسلوب

تبصرہ نگار:مجیداحمد جائی ۔ملتان شریف 0301.7472712
لبِ گویا عمر عبدالرحمن جنجوعہ کی دوسری تصنیف ہے ۔یہ نصابی سائز کی بڑی کتاب ہے ۔اس سے پہلے ’’زمین ‘‘پہلی کتاب خوب پذیرائی حاصل کر چکی ہے اور نصاب میں بھی شامل ہو چکی ہے ۔یہ کتاب رئیل اسٹیٹ کے موضوع پر پاکستان کی پہلی اُردو زبان میں شائع ہونے والی کتاب ہے ۔جس پر راقم الحروف میں اپنے الفاظ میں تبصرہ بھی کیا تھا ۔
لبِ گویا !سیاست ،سماج اور ادب و فکر پر مشتمل 73منتخب تحریروں کا مجموعہ ہے ۔اس کے علاوہ پانچ معتبراور ادب کے درخشاں ستاروں کے اظہار خیال شامل ہیں اور لکھاری ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں ‘‘کے عنوان سے اپنی بات بھی کرتے ہیں جسے پیش لفظ یا مقدمہ کہا جا سکتا ہے ۔
لبِ گویا 2018ء میں شائع ہوئی ہے اور اس کی قیمت 350روپے ہے ۔سرورق دیدہ زیب اور شاندار ہے ۔نامور شخصیات کی تصویروں سے سجا سرورق اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔بیک فلاپ پہ مصنف کی تصویر دیکھ کر دل سے دعانکلتی ہے کے اللہ تعالیٰ اِسے ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور کھلکھلاتا رکھے جس طرح تصویر میں مسکارہا ہے اور تصویر کے ساتھ ہی آصف محمود جو سینئرکالم نگار اور اینکر پرسن ہیں ،ان کے الفاظ سحر میں مبتلا کر رہے ہیں ۔
عمر عبدالرحمن جنجوعہ کی بات کریں تو یہ میرے بہترین دوست ہیں ۔اِن کی تحریروں سے ملتا رہتا ہوں لیکن اِن سے بالمشافہ ملاقات کو ترس رہا ہوں ۔اِن کا قلم حق اور سچ کا علمبردار ہے ۔عمدہ ،مدلل اور سادہ لکھتے ہیں ۔طرزبیاں عام فہم اور شاندار ہے ۔اپنے قاری کو اُلجھاتے نہیں بلکہ اُن کے ذہن کو سُلجھاتے ہیں ۔ہمت ،جذبہ ،اُمنگ،جستجو پیدا کرتے ہیں اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہیں ۔اِن کی تحریریں کسی کی دِل آزاری نہیں کرتیں بلکہ غوروفکر کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔آپ کا قلم جہادی ہے اور اپنے مقصد میں ہمہ تن تیار ہے ۔
لبِ گویا !کا انتساب شہداء حریت پسند کشمیریوں اور افواج پاکستان کے نام کرتے ہیں اور اندر ایک تحریراپنے استاد محترم ’’انوار فطرت صاحب‘‘پہ لکھتے ہوئے اپنے جذبات اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔’’مجھے کہنا ہے اپنی زباں میں ‘‘کے عنوان سے لکھتے ہیں ’’میں دائیں اور بائیں بازو کے نظرے سے بالاتر ہو کر ہمیشہ یہی کوشش کی کہ ہمیشہ حق اور سچ کی آواز کی بلند کی جائے اور معاشرے میں موجود بُرائیاں اور فرسودہ روایات اور سماج میں چھپی کالی بھیڑیں بے نقاب کی جائیں ۔رب باری تعالیٰ نے کلام پاک میں قلم کی قسم اُٹھائی یہی وجہ ہے کہ الحمدللہ!نہ ہی میرا قلم بکا نہ جھکااس وجہ سے بے شمار مسائل ،دھونس دھمکیوں کا بھی سامنارہا ۔الحمدللہ !میرا قلم نہیں ڈگمگایا۔ 
’’آسمان صحافت کا درخشاں ستارہ ‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد طبیب خان سنگھانوی لکھتے ہیں عمر عبدالرحمن جنجوعہ کی یہ تمام نگارشات ادبی اسلوب اور دیگر صحافتی امور کا مکمل طور پر احاطہ کرتی معلوم ہوتی ہیں جو کہ دور حاضر میں تعلیم و تربیت اور نسلِ نو کی ذہن علم و اد ب کے موتی نہایت سلیقہ مندی اور حسن تربیت سے پروئے معلوم ہوتے ہیں جو بے ربط عبارات کو ربط اور بے زبان الفاظ کو زبان بخش کو عشاق علم و ادب کے لیے بجا طور پر ایک گراں قدر تحفہ بن جاتے ہیں اور ہر خاص و عام کے لیے وسیع تر استفادے کا سر چشمہ ثابت ہوتے ہیں ۔
’’علم و ادب کا سفر‘‘کے عنوان سے سلمان عا بد لکھتے ہیں ’’ادب کے موضوعات سے (عمر عبدالرحمن جنجوعہ )کو خاصہ لگاؤ ہے اور زیادہ تر ان کی تحریریں ادب اور لٹریچرپر ہوتی ہیں ۔’’گردوپیش کا آئینہ ‘‘کے عنوان سے احمد جاوید بھارت سے لکھتے ہیں لب گویا !اپنے موضوعات کی کثرت اور برتاؤ کے تنوع کے ساتھ ہماری توجہ پوری قوت سے اپنی جانب کھینچتی ہے ۔عمر کے کالموں ،تبصروں ،رپورٹوں ،فیچر اور مختلف نوعیت کی نگارشات کا یہ مجموعہ ایک نوجوان صحافی کی مجموعی کارکردگی کا آئینہ تو ہے ہی معاصر دُنیا ،ملک و معاشرہ اور گردوپیش کا آئینہ بھی ہے ۔
عمر !جنجوعہ کون ہے ؟کے عنوان سے میرے پیارے دوست فرخ شہباز وڑائچ کچھ یوں رقم طرز ہیں بلاشبہ عمر جہاد کررہا ہے ۔یہ بات کرتے ہوئے مبلغ اور مسیحا کا روپ نہیں دھارتا یہ حساس موضوع پر بھی ڈھنگ سے بات کر رہا ہے ،اسے اپنی حدود و قیود کا بھی پتا ہے یہ لکھتے ہوئے جج بن کر فیصلے بھی صادر نہیں کر رہا ،یہ بلا دریغ پڑھنے والوں پر رائے بھی نہیں تھوپتا ۔یہ معلومات ،احساسات ،جذبات قارئین تک پہنچانے کا ہنر جان چکا ہے ۔عمربیک وقت کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے ۔یہ صرف اچھا قلم کار ہی نہیں شاندار شخصیت کا بھی مالک ہے ۔
’’مثبت ذہن ‘‘کے عنوان سے عمر کے استاد کچھ یوں رائے قائم کرتے ہیں عمر عبدالرحمن جنجوعہ کے پاس خلوص کی فروانی ہے ۔یہ نوجوان انتہائی مثبت ذہن کا مالک ہے ۔اس کے ہاں تحقیق کاروں کی طرح دُنیا کو خوب صورت دیکھنے کی تمنا ہے اور یہ ہی تمنا اسے لکھنے پر اُکستاتی ہے ۔
لب گویا !میں شامل تحریروں میں کئی مقامات پر خامی محسوس ہوتی ہے ،جملے سست لگتے ہیں لیکن جانتا ہوں ابھی اس کے لکھنے کی عمر ’’بسم اللہ ‘‘کے دور سے گزر رہی ہے ۔مجھے یقین ہے کہ فن نگارش کے ساتھ اس کا خلوص اسے ضرور کامران کرے گا ۔
پہلی تحریر مائیکروسافٹ انجینئر فخر پاکستان ارفع کریم رندھاوا ،اُن کی نظم کے عنوان سے ہے۔دوسری تحریرملالہ یوسف زئی کے حوالے سے ہے ۔’’فن ثفاقت پر مت برسیئے‘‘تحریر بے ربطگی کا شکار ہوئی ہے ۔افتخار عارف سے مکالمہ مدلل اور جاندار ہوا ہے ۔’’آزادی کس نعمت کو کہتے ہیں ‘‘میں ایک جملے سے اختلاف ہے ’’ہمارے ہاں تھرڈ کلاس فنکار کی وفات پر اتنا ہنگامہ ہوتا ہے جیسے کوئی انکل یا نسلی رشتے دار فوت ہو گیا ہے ‘‘جبکہ فن ثقافت پر مت برسیئے میں فنکاروں کے بلند دعوئے کرتے نظر آتے ہیں اور حرام و حلال کی بحث بھی کرتے ہیں ۔یہاں یہ جملہ کہہ کر دل پہ خوب نشتر چلائے ہیں ۔
اداکاری حرام ہے انشااللہ !جلد اس پر کتاب لکھوں گی ‘‘اس پہ اتنا کہوں گا کہ یہ علم اور عمل کی کمی ہے ،ہم بنا تصدیق کیے حلا ل اور حرام کے بارے میں مفتی بن کر فتوے جاری کر دیتے ہیں ۔ہم سنی سنائی باتوں پر زیادہ عمل کرتے ہیں اور آنکھیں بند کرکے اس کی تقلید بھی کرتے ہیں ،خود تصدیق و تحقیق نہیں کرتے ،سارہ چوہدری کو اپنی تحقیق کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہیے۔
’’بچے من کے سچے ‘‘میں مثالیں دے کر والدین کو سیکھا رہے ہیں یوں آپ شفقت پدر سے باخوبی واقف ہیں اور بچوں کی ذہنی سطح بھی سمجھتے ہیں یوں عمر عبدالرحمن جنجوعہ کا علم اور ادارک خوب اُبھر کر سامنے آتا ہے ۔
عمر عبدالرحمن جنجوعہ !لب گویا میں ہر تحریر کے ساتھ اخبار کا نام لکھتے ہیں جہاں شائع ہوئی ۔بہترہوتا ساتھ تاریخ کا حوالہ بھی دیا جاتا اور یوں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے تابندہ جاوید ہوتے ۔عمر عبدالرحمن جنجوعہ کئی تحریروں میں تکرار لفظی سے خوب کام لیتے ہیں اور پورے پورے پیراگراف بھی شامل کر لیتے ہیں ۔کالم نگار کو اس طرف توجہ دینی چاہیے تھی لیکن غفلت برتی گئی۔
عمر عبدالرحمن معاشرے میں پھیلی بُرائیوں کی نہ صرف نشان دہی کرتے ہیں بلکہ ان کے تدارک کرانے کی تگ ود کرتے نظر آتے ہیں ۔اِن کا قلم کسی ایک موضوع کا پابند نہیں ہے بلکہ ہر طبقہ فکر کے احساسات ،جذبات اور کام کا عکاس ہے ۔
بھارت سے ایک ماں کا پیغام ۔۔نوجوان کے نام ۔۔۔پڑھ کر دل دِھل جاتا ہے اس طرح کے واقعات پڑھ کر اور سن کر دِل خون کے آنسو روتا ہے ۔بے شک اس ارض وطن پاکستان کو بے شمار قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا ہے لیکن نوجوانِ نسل اسلاف کی قربانیوں کو بھول کر کسی اور سمت گامزن ہو چکے ہیں ۔ان کو ضرور بہ ضرور غوروفکر کرنا چاہیے ۔عمر عبدالرحمن اس طرح کی تحاریر لکھ کر نوجوانِ نسل کو اس طرف راغب کرنے کا بیڑہ اُٹھائے ہوئے ہیں ۔
’’میر ا دل ،میری جان پاکستان پاکستان‘‘اچھے لوگوں کو راستے کا کانٹا سمجھ کر مفاد پرستوں نے نکال دیا ہے ۔قائداعظم محمد علی جناح ،لیاقت علی خان کو کیوں راستے سے ہٹایا گیا ۔۔۔تاریخ کے اوارق چیخ چیخ کر ان کی داستان سنا رہے ہیں ۔’’سائنس کی پیشن گوئی ،کیا قیامت آنے والی ہے ؟‘‘بے شک موت سے وہی ڈرتے ہیں جنہیں رب رحمان کی عظمتوں ،نعمتوں ،رحمتوں پہ یقین نہیں ہے ،جو مومن ہے وہ موت کی تیاری میں مگن رہتا ہے اور موت کا انتظار کرتا ہے ،موت سے خوف نہیں کھاتا ۔
’’دختر پاکستان ارفع کریم رندھاو‘‘میں آپ مطالبہ کرتے ہیں ’’ارفع کی برسی کو سرکاری سطح میں منانا چاہیے ‘‘سات سال گزر گئے لیکن آپ کے مطالبے پر حکومت نے کان نہیں دھرے۔میں بھی آپ کے ساتھ ہوں ،صرف ارفع کریم رندھاوہی نہیں ہر اُس شخص کو جو پاکستان کا نام روشن کرتا ہے ،اُسے پروٹول ملنا چاہیے ۔’’اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں ‘‘بہت خوب ۔قلم کی اس جہاد میں ،میں بھی آپ کے ہمہ تن ساتھ ہوں انشااللہ !
’’سعید احمد میاں سے گفت گو ‘‘شاندار رہی ۔آخری سطور میں کتنا درد پنہاں ہے ۔کیسے کیسے ہیرے اس ملک میں ہیں لیکن ان ہیروں کے قدر کرنی نہیں آئی ۔آئے مفاد پرستوں ان ہیروں کی طرف دھیان دو۔
عمر عبدالرحمن جنجوعہ کا قلم معاشرے کا عکاس ہے ۔آپ طنزو مزاح سے بھی کام لیتے ہیں ۔آپ ہر اچھے کام کو سراہتے نظر آتے ہیں اور ہر بُرے کام سے روکتے ہیں ۔لبِ گویا !پڑھنے کے بعد عمر عبدالرحمن جنجوعہ کے وسیع مطالعہ کا پتا چلتا ہے ۔اپنی تحریروں میں کتابوں کے حوالے ،احادیث بھی کوٹ کرتے ہیں ۔دین سے خاصہ لگاؤ ہے ۔حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بات سمجھاتے ہیں ۔
عمر عبدالرحمن جنجوعہ اپنے تحریروں کے نام رکھتے ہوئے اختصار سے کام نہیں لیتے البتہ کتاب کا نام اختصار سے دیا گیا ہے ۔ہر تحریر کا عنوان پورا ایک جملہ ہوتا ہے ۔لبِ گویا میں پروف کی غلطیاں موجود ہیں اور کمپوزنگ میں بھی خال خال غلطیاں پائی جاتی ہیں ۔میری دُعا ہے کے میرا یہ دوست یونہی اپنے مقصد پہ رواں دواں رہے اور آپ کا قلم جہاد کرتے رہے ۔آمین !

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں