447

انکل عمران! میں فریال ہوں ننھی کلی فریال کا جنت سے عمران خان کے نام خط (عمر عبد الرحمن جنجوعہ )

انکل عمران میں فریال ہوں،میں یہ خط آپ کو جنت سے لکھ رہی ہوں ،میں کل ہی یہاں پہنچی ، ابھی تویہاں میرے زیادہ دوست نہیں پر قصور کے علاقے سے ایک آپی کچھ عرصہ پہلے یہاں آئی ،وہ میری دوست ہیں ۔وہ بتا رہی تھی کہ فریال ،جیسے تمہاری سانسیں چھینی گئی بالکل ویسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا تھا ۔ ان آپی کا نام زینب ہے ، جب میں جنت پہنچی تو وہ بہت غم زدہ ہوئی ،کہتی ہیں کہ میرا مجرم تو اپنے انجام کو پہنچا گیا تھا اور مجھے یقین تھا اب کوئی ننھی پری میری طرح دنیا چھوڑ کر نہیں آئے گی۔لیکن تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا۔بہت افسوس ہے۔ سنا ہے کہ پاکستان کا نیا وزیراعظم مدینہ طرز کی ریاست بنانا چاہتا ہے ،لیکن وہ میرے اس وحشت ناک قتل پر خاموش کیوں ہے؟ اس لئے کہ میں غریب کی بیٹی ہوں، یا اس لیے کہ میرے خاندان سے کوئی سیاست شخصیت نہیں، وہ تو کہتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی طرز حکم رانی میرا ماڈل ہے ۔
لیکن خلیفہ عمرؓ تو دریائے فرات کے کنارے کتے کہ مرنے پر بھی جواب دہی کے احساس سے کانپتے تھے۔
انکل عمران! میں میلوں دور دریائے فرات کے کنارے تو نہیں رہتی۔ آپ کے امیر خانے سے محض 2گھنٹے کی مسافت پر میرا غریب خانہ تھا۔میں کل گھر سے کھیلتے کھیلتے نکلی،ایک انکل میرے پاس آئے دیکھنے میں تو انسان نما تھے انہوں نے چاکلیٹ دی اور مجھے ساتھ لے گئے اس کے بعد مجھے ایک گھر میں رکھا جہاں میرے ساتھ زیادتی کی گئی ۔
انکل عمران! میری سانسیں تو چل رہی تھیں لیکن مجھے ہوش نہ تھا ، اس بے ہوشی کے حالت میں مجھے ویرانے میں پھینک گیا ،وہ کوئی انسان نہ تھا کیوں کہ کل میری اس اندوہناک موت پر درندوں نے بھی ماتم کیا ہے،وہ شخص درندوں سے بدتر تھا۔
انکل عمران !میری سانسیں توچل رہی تھی لیکن سردی سخت تھی، میرے جسم سے اس درندے نے سارے کپڑے کھینچ اتارے تھے ،میری ٹانگیں سن تھی، میری آواز بند ہو چکی تھی، مجھے سخت سردی لگ رہی تھی ۔
انکل عمران! میں نے سردی کو بھی کل روتے دیکھا ہے ، سردی نے مجھے کہا بیٹا رب نے یہ طاقت نہیں بخشی کہ میں گرم ہو جاؤں ،سردی کے آنسو میرے جسم پر گرتے رہے ،وہ چیختی رہی ،پکارتی رہی لیکن اس کی آواز کوئی نہ سن سکا ، پھر اس نے رب سے دعائیں کی جو رنگ لائی ،خدا نے فرشتے کو میری طرف بھیجا، عزرئیل کہتے ہیں کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے تمہیں جنت لے جانے کے لئے۔ میں جنت میں آ گئی ، یہاں پھولوں کے بہت خوب صورت اور بڑے بڑے باغ ہیں میں تو دنیا میں بھی تتلی تھی اور یہاں بھی ہوں اور ان باغوں کی سیر کر رہی ہوں ۔
لیکن انکل عمران !مجھے ماما بہت یاد آتی ہیں ، ان کا پیار ، ان کی لوری یاد آتی ہے،بابا کی بھی بہت یاد آتی ہیں،جب گھر آتے تھے تو سب سے پہلے مجھے پیار کرتے ،چاکلیٹ دیتے ۔اللہ میاں مجھے کہتے ہیں روز محشر تم اپنے ماما بابا کو جنت لے کر آ جانا، لیکن انکل عمران مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ قیامت اس دردناک وقت سے زیادہ سخت ہو گی جس سے میرے والدین گذر رہے ہیں۔
انکل عمران! کب تک یہ درندے آزاد گھومتے رہیں گے؟ کب تک والدین پر یوں ہی قیامت بپا ہوتی رہی گی؟ آپ تو حضرت عمرؓ کے قول کے داعی تھے ، لیکن ابھی تک آپ کی خاموشی میرے والدین کو پریشان کر رہی ہے۔ کیا زینب آپی کی طرح میرے مجرم کو بھی تخت دار سے لٹکایا جائے گا؟ کیا میری طرح دیگر کلیاں بھی یوں ہی مسلی جاتی رہیں گی۔
انکل عمران !اگرآپ نے مجرم کو پھانسی نہ دی تو میں آپ کو معاف نہ کروں گی۔آپ مدینہ کی ریاست کے خواہ ہیں تو فوری طور پر مجرم کو نشان عبرت بنائیں تاکہ اس کے بعد کسی کو زینب یا فریال پر نوحہ نہ لکھنا پڑے۔
انکل عمران! میں جنت سے آپ کے لیے دعا گو ہوں۔ ماما بابا روئیں مت میں واپس تو نہیں آ سکتی لیکن میرا آپ سے وعد ہ ہے کہ روز محشر میری آپ سے ملاقات ہو گی اور آپ لوگ میرے مہمان بنیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں